کیمیائی مائع جس نے صحرا کو لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل کر دیا
سمندر میں گرنے سے پہلے والی جگہ جہاں سے دریائے نیل کئی حصوں میں تقسیم ہوتا ہے، دیگر الفاظ میں جہاں ڈیلٹا بنتا ہے، وہاں کی مٹی کی زرخیزی سے متاثر ہو کر ماہرین وہاں کی مٹی کے اجزا، پانی اور مقامی مٹی کے مرکب سے اب صحرا میں پھل اُگا رہے ہیں۔ رواں برس مارچ میں جب پوری دنیا کووِڈ 19 کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہو گئی تھی تو دنیا کے ایک حصے متحدہ عرب امارات میں ایک بہت ہی قابلِ ذکر تبدیلی اپنے انجام کو پہنچی۔ صرف 40 دنوں میں ریت کے ایک قطعہِ اراضی پر جو کبھی خشکی سے گھری ہوئی قوم کے صحرا کا حصہ تھا، اب عرب کے سورج کی تپش میں پکے ہوئے میٹھے تربوزوں سے بھرا ہوا تھا۔ بس فرق یہ تھا کہ یہ سارا عمل سادگی کے ساتھ نہیں ہوا تھا --- یہ تربوز صرف اسی لیے اُگ سکے کیونکہ یہاں 'نینو کلے' (نانو طین یا مٹی) کا استعمال ہوا، جو کہ زمین کو زرخیز بنانے کی ایک ٹیکنالوجی ہے جس کی کہانی اس جگہ سے پندرہ سو میل مغرب میں چند دہائیاں پہلے شروع ہوتی ہے۔ سنہ 1980 کی دہائی میں مصر کے دریائے نیل کے ڈیلٹا کے کچھ حصے میں فصلوں کی نشو و نما رک گئی۔ زرخیزی کے لحاظ سے شہرت رکھنے والا علاقہ، باوجود اس کے کہ اس کے...